Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں

وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں نہ وہ بستی میں نہ اجاڑ میں نہ وہ جھاڑ میں نہ پہاڑ میں مجھے کام تجھ سے ہے اے جنوں نہ کہوں کسی سے نہ کچھ سنوں نہ کسی کی رد و قدح میں ہوں نہ اکھاڑ میں نہ پچھاڑ میں یہ صبا نے قیس سے آ کہا کہ سنا کچھ اور بھی ماجرا ترے پاس سے جو چلا گیا تو کھڑا ہے ناقہ اجاڑ میں ارے آہ تو نے غضب کیا مرے دل کو مجھ سے تڑا لیا مری جی کو لے کے جلا دیا پڑی اختلاط یہ پہاڑ میں خفگی بھی طرفہ ہے ایک شے پڑے قصہ ہوتے ہیں لاکھوں طے وہ کہاں ملاپ میں لطف ہے جو مزہ ہے ان کی بگاڑ میں مژہ پر ہے پارۂ دل تھنبا وہ مثل ہوئی ہے اب اے خدا کہ درخت سے جو کبھی گرا تو وہ اٹکا ان کے ہی جھاڑ میں کہیں کھڑکیوں کی طرف بندھی مری ٹکٹکی تو اے لو ابھی گل نرگس آ کے لگا گئی وہ پری ہر ایک دراڑ میں مری دل میں نشہ کا ہے مکاں مجھے سوجھتی ہیں وہ مستیاں کہ کھجوری چوٹیوں والیاں پڑی پھرتی ہیں مرے تاڑ میں بڑی داڑھیوں پہ نہ جا دلا یہ سب آہوؤں کی ہیں مبتلا یہ شکار کیسے ہیں برملا انہیں ٹٹیوں کی تو آڑ میں کھڑی جھانکتی ہے وہی پری نہیں شبہ اس میں تو واقعی وہ جو عطر فتنہ کی باس تھی سو رچی ہوئی ہے کواڑ میں نہ کر اپنی جان کو مضمحل ارے انشاؔ ان سے لگا نہ دل تو دگر نہ ہووے گا منفعل کہیں آ گیا جو لتاڑ میں
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR