Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں منہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آ سکتے ہیں یاں وہ آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ آگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں سوچئے تو سہی ہٹ دھرمی نہ کیجے صاحب چٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں حضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاں انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں تو گروہ فقرا کو نہ سمجھ بے جبروت ذات مولیٰ میں یہی لوگ سما سکتے ہیں دم ذرا سادھ کے لیتے ہیں پھریری تو ابھی سون کھینچی ہوئی لاہوت کو جا سکتے ہیں گرچہ ہیں مونس و غم خوار تگ و دو میں سہی پر تری طبع کو کب راہ پہ لا سکتے ہیں چارہ ساز اپنے تو مصروف بدل ہیں لیکن کوئی تقدیر کے لکھے کو مٹا سکتے ہیں ہے محبت جو ترے دل میں وہ اک طور پہ ہے ہم گھٹا سکتے ہیں اس کو نہ بڑھا سکتے ہیں کر کے جھوٹا نہ دیا جام اگر تو نے تو چل مارے غیرت کے ہم افیون تو کھا سکتے ہیں ہم نشیں تو جو یہ کہتا ہے کہ قدغن ہے بہت اب وہ آواز بھی کب تجھ کو سنا سکتے ہیں اے نہ آواز سناویں مجھے در تک آ کر اپنے پاؤں کے کڑوں کو تو بجا سکتے ہیں ہم تو ہنستے نہیں پر آپ کے ہنسنے کے لیے اور اگر سانگ نہیں کوئی بنا سکتے ہیں کالی کاغذ کی ابھی ایک کتر کر بیچا زاہد بزم کے منہ پر تو لگا سکتے ہیں گھر سے باہر تمہیں آنا ہے اگر منع تو آپ اپنے کوٹھے پہ کبوتر تو اڑا سکتے ہیں جھولتے ہیں یہ جو جھولی میں سو کہتے ہیں مجھے ایک وعدہ پہ تجھے برسوں جھلا سکتے ہیں ایک ڈھب کے جو قوافی ہیں ہم ان میں انشاؔ اک غزل اور بھی چاہیں تو سنا سکتے ہیں
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR