Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ

ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ ہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذ نامۂ یار کے لکھنے کو مجھے ارزاں ہے تول دے گر کوئی سونے کے برابر کاغذ یوں لفافے میں ہمارا ہے کلام شیریں جس طرح باندھتے ہیں قند کے اوپر کاغذ ناتوانی سے نہیں ہے مجھے ممکن حرکت میں ہوں حرفوں کی طرح میرا ہے بستر کاغذ حال لکھا ہے جو میں نے بدن لاغر کا لے اڑا تنکے کی مانند کبوتر کاغذ میں نے لکھا ہے جو اپنا یہ مصیبت نامہ مہر کرنے کو کروں اشک سے اب تر کاغذ میرے نامے کو اگر دست حنائی میں وہ لے ورق گل سے بھی ہو رنگ میں بہتر کاغذ حال سوز غم فرقت کروں تحریر تو ہو کبک کی چونچ قلم بال سمندر کاغذ اس قدر مثل قلم میں نے جبیں سائی کی بن گیا گھس کے در یار کا پتھر کاغذ یار نے خط میں جو لکھا ہے کہ نہ آنا ہرگز ہو گیا میرے لیے سد سکندر کاغذ ساتھ نامے کے گئی جان بھی سوئے جاناں ہو گیا طائر جاں کے لیے شہ پر کاغذ نہیں تحفہ خط جاناں کے برابر کوئی ہے مجھے قند و ذقن سے کہیں بہتر کاغذ جائے جراح کہ اب نامہ بر آ پہنچا ہے بدلے پھاہے کے رکھوں داغ جگر پر کاغذ کیا میں افلاس میں خط یار کو لکھوں ناسخؔ نہ قلم ہے نہ سیاہی نہ میسر کاغذ
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR