Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا جس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدا مس کے زر ہونے سے بہتر ہے کمال انساں خاکساری ہے جدا اور ہے اکسیر جدا جائے دنداں لب سوفار ہوئے اے قاتل دہن زخم سے ہوگا نہ ترا تیر جدا مرض عشق میں پیٹھ اپنی یہ بستر سے لگی نہ کبھی صفحہ سے جس شکل ہو تصویر جدا اے جنوں پاؤں ہیں جب تک یہ تمنا ہے مجھے کبھی مانند رگوں کے نہ ہو زنجیر جدا چھوڑوں کیا پیری میں شیریں دہنوں کی صحبت نہیں ممکن کہ ہوں مل کر شکر و شیر جدا کہتے ہیں دیکھ کے زلف اس کے رخ تاباں پر کبھی ہوتا نہیں اس شمع سے گل گیر جدا جب جدائی کے مضامین مجھے سوجھے ہیں حرف سے حرف ہوا ہے دم تحریر جدا کیوں نہ ہو جلوۂ خورشید سے سائے کا وجود کیا ترے چہرے سے ہو زلف گرہ گیر جدا مجھ گرفتار جدائی کے جو پاؤں میں پڑی ہو جنوں حلقے سے ہر حلقۂ زنجیر جدا میں نے جو درد جدائی سے کیے ہیں نالے کیجیے تن سے مرا سر پئے تعزیر جدا تیغ آہن سے سوا ہے برش تیغ زباں حق کو باطل سے کرے گی تری تقریر جدا آشنا متحد اس درجہ کہاں ہوتے ہیں آپ دلگیر ہے ناسخؔ جو ہے دلگیر جدا
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR