Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو نہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہو نہ روئے تا کوئی عاشق یہ حکم ہے اس کا کہ شمع بھی مری محفل میں اشک بار نہ ہو جو ہچکی آئی تو خوش میں ہوا کہ موت آئی کسی کو یار کا اتنا بھی انتظار نہ ہو ذقن ہے سیب تو عناب ہے لب شیریں نہیں ہے سرو وہ خوش قد جو میوہ دار نہ ہو وہ ہوں میں مورد نفرت کہ درکنار ہے یار پئے فشار کبھی گور ہم کنار نہ ہو نہ آئے کنج لحد میں بھی مجھ کو خواب عدم اگر سرہانے کوئی خشت کوئے یار نہ ہو برنگ حسن بتاں ہے دل شگفتہ مرا جو اس چمن میں خزاں ہو تو پھر بہار نہ ہو گئی ہے کیسی زمانے سے رسم سرگرمی عجب نہیں ہے جو پتھر میں بھی شرار نہ ہو نہ ہنسنے سے کبھی ہم راز پوش واقف ہوں برنگ غنچہ جگر جب تلک فگار نہ ہو تری مژہ کی جو تشبیہ اس سے ترک کریں کسی کے تیر سے کوئی کبھی فگار نہ ہو دم اخیر تو کر لیں نظارہ جی بھر کے الٰہی خنجر سفاک آب دار نہ ہو یہی ہے قلزم غم میں مری دعا یا رب قیام اس میں کوئی بھی حباب دار نہ ہو وہ صبح سینۂ صد چاک میں ہے داغ جنوں کہ جس سے دیدۂ خورشید بھی دو چار نہ ہو ہوس عروج کی لے جائیں گر یہ دنیا سے کبھی بلند ہوا سے کوئی غبار نہ ہو کمال صورت بے درد سے تنفر ہے نہ دیکھیں ہم کبھی اس گل کو جس میں خار نہ ہو ہزاروں گور کی راتیں ہیں کاٹنی ناسخؔ ابھی تو روز سیہ میں تو بے قرار نہ ہو
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR