Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو

چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو صدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہو کشتۂ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو عضو سے عضو قیامت میں جدا پیدا ہو ہم ہیں بیمار محبت یہ دعا مانگتے ہیں مثل اکسیر نہ دنیا میں دوا پیدا ہو کہہ رہا ہے جرس قلب بآواز بلند گم ہو رہبر تو ابھی راہ خدا پیدا ہو کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیض قدم سنگ پر کیوں نہ نشان کف پا پیدا ہو مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں نہ زباں ہو تو کہاں نام خدا پیدا ہو گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو نہ سر زلف ملا بل بے درازی تیری رشتۂ طول امل کا بھی سرا پیدا ہو کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے تجھ سا آفاق میں جب ماہ لقا پیدا ہو ابھی خورشید جو چھپ جائے تو ذرات کہاں تو ہی پنہاں ہو تو پھر کون بھلا پیدا ہو کیا مبارک ہے مرا دست جنوں اے ناسخؔ بیضۂ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR