امام بخش ناسخ
ہجر جاناں سے رہائی کا قرینہ ہو گیا
ہجر جاناں سے رہائی کا قرینہ ہو گیا
سہل مرنا ہو گیا دشوار جینا ہو گیا
جو پری پیکر نظر آیا وہ ہے زر کا مطیع
ہر درم گویا سلیماں کا نگینہ ہو گیا
کیوں نہ ہو ایسا عروج نشۂ مے ساقیا
تا فلک موج ہوا کا کیا ہی زینہ ہو گیا
وادئ دل ہے تجلی گاہ جاناں رات دن
ان دنوں سینہ ہمارا طور سینا ہو گیا
سال بھر سے مصحف روئے صنم دیکھا نہیں
وہ رجب کیا اس رجب کا بھی مہینہ ہو گیا
یار کی شمشیر ابرو اس قدر ہے آب دار
تیغ پر خجلت سے ہر جوہر پسینہ ہو گیا
کون ہے اس ماہ کا جو گرم نظارہ نہیں
چشمۂ خورشید بھی اب چشم بینا ہو گیا
خاک ہے اب آب ہی فصل بہاری میں شراب
شیشۂ ساعت بھی مہ کا آبگینہ ہو گیا
گڑ گئے گلبن زمیں میں دیکھ کر بونا سا قد
تھا کف گل میں جو زر گویا دفینہ ہو گیا
جس طرح معدوم ہوتے ہیں ستارے صبح دم
عہد پیری میں مرا خالی خزینہ ہو گیا
پرتو جاناں ہے میرے کالبد میں جائے روح
آئنہ کی پشت گویا اپنا سینہ ہو گیا
رنگ پاں سے سبز سونا بن گئے کندن سے گال
مبتذل تشبیہ ہے سونے پہ مینا ہو گیا
فرقت ساقی میں ایسے بن گئے ہم پارسا
محو خاطر سے خیال جام و مینا ہو گیا
ہے تصور میں جو محبوب الٰہی رات دن
کعبۂ دل صاف اے ناسخؔ مدینہ ہو گیا