Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

ہجر جاناں سے رہائی کا قرینہ ہو گیا

ہجر جاناں سے رہائی کا قرینہ ہو گیا سہل مرنا ہو گیا دشوار جینا ہو گیا جو پری پیکر نظر آیا وہ ہے زر کا مطیع ہر درم گویا سلیماں کا نگینہ ہو گیا کیوں نہ ہو ایسا عروج نشۂ مے ساقیا تا فلک موج ہوا کا کیا ہی زینہ ہو گیا وادئ دل ہے تجلی گاہ جاناں رات دن ان دنوں سینہ ہمارا طور سینا ہو گیا سال بھر سے مصحف روئے صنم دیکھا نہیں وہ رجب کیا اس رجب کا بھی مہینہ ہو گیا یار کی شمشیر ابرو اس قدر ہے آب دار تیغ پر خجلت سے ہر جوہر پسینہ ہو گیا کون ہے اس ماہ کا جو گرم نظارہ نہیں چشمۂ خورشید بھی اب چشم بینا ہو گیا خاک ہے اب آب ہی فصل بہاری میں شراب شیشۂ ساعت بھی مہ کا آبگینہ ہو گیا گڑ گئے گلبن زمیں میں دیکھ کر بونا سا قد تھا کف گل میں جو زر گویا دفینہ ہو گیا جس طرح معدوم ہوتے ہیں ستارے صبح دم عہد پیری میں مرا خالی خزینہ ہو گیا پرتو جاناں ہے میرے کالبد میں جائے روح آئنہ کی پشت گویا اپنا سینہ ہو گیا رنگ پاں سے سبز سونا بن گئے کندن سے گال مبتذل تشبیہ ہے سونے پہ مینا ہو گیا فرقت ساقی میں ایسے بن گئے ہم پارسا محو خاطر سے خیال جام و مینا ہو گیا ہے تصور میں جو محبوب الٰہی رات دن کعبۂ دل صاف اے ناسخؔ مدینہ ہو گیا
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR