Skip to content
امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ

ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں

ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں خیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیں وہ بے نقاب ہوا ہے تو یہ تماشا ہے دو چار ہونے کی آنکھوں میں اپنی تاب نہیں یہ مجھ کو اس کے تغافل سے ہے یقین کہ ہائے جواب نامے سو اے نامے کا جواب نہیں سما رہا ہے یہاں تک پری رخوں کا جمال ہماری آنکھوں میں خالی مقام خواب نہیں بتوں کے پردے میں ہم دیکھتے ہیں نور خدا خدا کے دیکھنے کی اے کلیم تاب نہیں وفور اشک سے کیوں ہے گلے تلک پانی ہمارا کاسۂ سر کاسۂ حباب نہیں میں بزم شاہد و ساقی میں کیوں نہ وجد کروں برائے زہد و ورع عالم شباب نہیں کیا ہے داغ نے کیوں اس کو منزل خورشید ہمارا دل ہے یہ کچھ برج آفتاب نہیں ہوا ہے مانع دیدار یار پردۂ چشم کھلی جو آنکھ تو کچھ درمیاں حجاب نہیں یہ ضبط گریہ میں عالم ہے بے قراری کا کہ برق کوندتی ہے بارش سحاب نہیں بشر کے جسم میں ہے جان مایۂ غفلت سو اے دیدۂ تصویر کس کو خواب نہیں دلا ہے موسم پیری محل جام شراب بغیر صبح کوئی وقت آفتاب نہیں میں غش سے اس کے چھڑکتے ہی ہوشیار ہوا کسی صنم کا پسینہ ہے یہ گلاب نہیں بہت فریب سے ہم وحشیوں کو وحشت ہے ہمارے دشت میں ناسخؔ کہیں سراب نہیں
امام بخش ناسخ

امام بخش ناسخ

View profile

شیخ امام بخش (پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء) فیض آباد میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ورزش کا شوق تھا۔ بدن کسرتی اور پھرتیلا تھا۔ فیض آباد کے ایک امیر محمد تقی کو ایسے بانکوں کی سرپرستی کا شوق تھا۔ محمد تقی نے ان کو بھی ملازم رکھا لیا اور ناسخ ان کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔ ناسخ کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ اودھ کے حکمراں غازی الدین حیدر نے ناسخ کو باقاعدہ ملازم رکھنا چاہا تھا مگر انھوں نے منظور نہ کیا۔ شاہی عتاب اور درباری آویزشوں کے سبب ان کو لکھنؤ چھوڑ کر الہ آباد، فیض آباد، بنارس اور کانپور میں رہنا پرا۔ لیکن آخر لکھنؤ واپس آ گئے۔ نظام دکن کے دیوان، چندو لال نے کثیر رقم بھیج کر ناسخ کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی لیکن وہ وطن چھوڑ کر نہیں گئے۔ ناسخ لکھنؤ اسکول کے اولین معمار قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنؤ کے علاوہ دہلی کے شاعر بھی تھے۔ ناسخ اسکول کا سب سے بڑا کارنامہ اصلاح زبان ہے۔ لکھنؤیت سے شاعری کا جو خاص رنگ مراد ہے اور جس کا سب سے اہم عنصر خیال بندی کہلاتا ہے، وہ ناسخ اور ان کے شاگردوں کی کوشش و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ ناسخ کے کلام کا بڑا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں، قطعات، تاریخیں اور ایک مثنوی شامل ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR