Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ تو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ کہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہ کہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ سیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفام میں بوالہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ صفائے دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میں چراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ سمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطی کہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ وہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردن تو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ مقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعی نہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ سما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوے کہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ شکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھی دکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ مجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تو اور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ بلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصح تو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ سمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینی تو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR