Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں چارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے گل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم کیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنون وہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR