Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانا اس رخ کی صفائی پر اس دل کا پھسل جانا سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھا پھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا اتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤ گھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا اے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایا تو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا کیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تو نظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا ہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنا مشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا حوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانی لے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا عشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانے لو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا کیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہے پانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا مطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میں اس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا دم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہے اتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR