Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا پر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک یہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھو تو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارے پر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوں پر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھو یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ سن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم بس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا چپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرے اس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے بات ہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ درد ورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہ پھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولو سمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا سنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیار کیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا مومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تک ہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR