Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے دل عشق تیری نذر کیا جان کیونکہ دوں رکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے تسکین اضطراب دل زار کے لیے کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم طرز خرام و شوخئ رفتار کے لیے جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں اظہار حال چشم گہربار کے لیے دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لیے مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR