Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا کیا شب انتظار ہونا تھا ناحق امیدوار ہونا تھا کیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیں میری قسمت میں خوار ہونا تھا مجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملا حشر اور ایک بار ہونا تھا گر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعب کیوں شکایت گزار ہونا تھا خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا اس کے در کا غبار ہونا تھا ہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئے چرخ کا اعتبار ہونا تھا مرگ شام وصال حرماں ہے صبح دم جاں نثار ہونا تھا اور سے ہمکنار ہے دشمن آج تو ہمکنار ہونا تھا شکوۂ دہر پر کہا تم کو آفت روزگار ہونا تھا چشم بے اختیار جاناں میں کیا مرا اختیار ہونا تھا صبر کر صبر ہو چکا جو کچھ اے دل بے قرار ہونا تھا کوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوں کیا مجھے شرمسار ہونا تھا وہ نمک پاش بھی نہیں ہوتے یوں ہی دل کو فگار ہونا تھا خاک میں حیف یہ شراب ملے محتسب بادہ خوار ہونا تھا نہ گیا تیر نالہ سوئے رقیب مرغ عرشی شکار ہونا تھا رات دن بادہ و صنم مومنؔ کچھ تو پرہیزگار ہونا تھا
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR