Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ پالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ کب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھ کیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائے آئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگی نکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھی اٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ سو زندگی نثار کروں ایسی موت پر یوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہے کس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ مرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہی افسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ دست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیا الجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ آتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کا کیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ میں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیں اس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ اللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر مومنؔ چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے ساتھ مومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میں آتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR