Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

صبر وحشت اثر نہ ہو جائے

صبر وحشت اثر نہ ہو جائے کہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے رشک پیغام ہے عناں کش دل نامہ بر راہبر نہ ہو جائے دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ غش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں زندگی پردۂ در نہ ہو جائے کثرت سجدہ سے وہ نقش قدم کہیں پامال سر نہ ہو جائے میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھو کہیں دامان تر نہ ہو جائے بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوں کہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے اے قیامت نہ آئیو جب تک وہ مری گور پر نہ ہو جائے مانع ظلم ہے تغافل یار بخت بد کو خبر نہ ہو جائے غیر سے بے حجاب ملتے ہو شب عاشق سحر نہ ہو جائے رشک دشمن کا فائدہ معلوم مفت جی کا ضرر نہ ہو جائے اے دل آہستہ آہ تاب شکن دیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھے وہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR