Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ بے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے اٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کو کچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہے کس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میں سینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیا کچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھی ہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکے عاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR