Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا

عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا جو ہم نہ ہوتے تو دل نہ ہوتا جو دل نہ ہوتا تو غم نہ ہوتا ہوئی خجالت سے نفرت افزوں گلے کیے خوب آخریں دم وہ کاش اک دم ٹھہر کے آتے کہ میرے لب پر بھی دم نہ ہوتا پڑا ہی مرنا بس اب تو ہم کو جو اس نے خط پڑھ کے نامہ بر سے کہا کہ گر سچ یہ حال ہوتا تو دفتر اتنا رقم نہ ہوتا کسی کے جلنے کا دھیان آیا وگرنہ دود فغاں سے میرے اگر ہزاروں سپہر بنتے تمہاری آنکھوں میں نم نہ ہوتا جو آپ در سے اٹھا نہ دیتے کہیں نہ کرتا میں جبہہ سائی اگرچہ یہ سر نوشت میں تھا تمہارے سر کی قسم نہ ہوتا وصال کو ہم ترس رہے تھے جو اب ہوا تو مزا نہ پایا عدو کے مرنے کی جب خوشی تھی کہ اس کو رنج و الم نہ ہوتا جہان تنگ و ہجوم وحشت غرض کہ دم پر بری بنی تھی کہاں میں جاتا نہ جی ٹھہرتا کہیں جو دشت عدم نہ ہوتا مگر رقیبوں نے سر اٹھایا کہ یہ نہ ہوتا تو بے مروت نظر سے ظاہر حیا نہ ہوتی حیا سے گردن میں خم نہ ہوتا وہاں ترقی جمال کو ہے یہاں محبت ہے روز افزوں شریک زیبا تھا بوالہوس بھی جو بے وفائی میں کم نہ ہوتا غلط کہ صانع کو ہو گوارا خراش انگشت ہائے نازک جواب خط کی امید رکھتے جو قول جف القلم نہ ہوتا یہ بے تکلف پھرا رہی ہے کشش دل عاشقاں کی اس کو وگرنہ ایسی نزاکتوں پہ خرام ناز اک قدم نہ ہوتا وصال تو ہے کہاں میسر مگر خیال وصال ہی میں مزے اڑاتے ہوس نکلتی جو ساتھ انداز رم نہ ہوتا ہوا مسلماں میں اور ڈر سے نہ درس واعظ کو سن کے مومنؔ بنی تھی دوزخ بلا سے بنتی عذاب ہجر صنم نہ ہوتا
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR