Skip to content
مومن خان مومن مومن خان مومن

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم اس کو میں جا مریں گے مدد اے ہجوم شوق آج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم بے روئے مثل ابر نہ نکلا غبار دل کہتے تھے ان کو برق تبسم ہنسی سے ہم ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خار راہ غیر کیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم کیا گل کھلے گا دیکھیے ہے فصل گل تو دور اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھا بے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے ہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دم بکا منہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشم پری سے ہم کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں مومنؔ نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم
مومن خان مومن

مومن خان مومن

View profile

مومن خان مومن (پیدائش:1800ء— وفات: 14 مئی 1851ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔ یہی ان کے کریکٹر کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔دبستان لکھنؤ کے شعرا کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعرا کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔ ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کرکے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR