اکبر الہ آبادی
کچھ آج علاج دل بیمار تو کر لیں
کچھ آج علاج دل بیمار تو کر لیں
اے جان جہاں آؤ ذرا پیار تو کر لیں
منہ ہم کو لگاتا ہی نہیں وہ بت کافر
کہتا ہے یہ اللہ سے انکار تو کر لیں
سمجھے ہوئے ہیں کام نکلتا ہے جنوں سے
کچھ تجربہ سبحہ و زنار تو کر لیں
سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لیں
حج سے ہمیں انکار نہیں حضرت واعظ
طوف حرم کوچۂ دلدار تو کر لیں
منظور وہ کیوں کرنے لگے دعوت اکبرؔ
خیر اس سے ہے کیا بحث ہم اصرار تو کر لیں