Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا

یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا جیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیدا کیا غضب ہے نگہ مست مس بادہ فروش شیخ فانی میں ہوا رنگ جوانی پیدا یہ جوانی ہے کہ پاتا ہے جنوں جس سے ظہور یہ نہ سمجھو کہ جنوں سے ہے جوانی پیدا بے خودی میں تو یہ جھگڑے نہیں رہتے اے ہوش تو نے کر رکھا ہے اک عالم فانی پیدا کوئی موقع نکل آئے کہ بس آنکھیں مل جائیں راہیں پھر آپ ہی کر لے گی جوانی پیدا ہر تعلق مرا سرمایہ ہے اک ناول کا میری ہر رات سے ہے ایک کہانی پیدا جنگ ہے جرم محبت ہے خلاف تہذیب ہو چکا ولولۂ عہد جوانی پیدا کھو گئی ہند کی فردوس نشانی اکبرؔ کاش ہو جائے کوئی ملٹنؔ ثانی پیدا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR