اکبر الہ آبادی
کرے گا قدر جو دنیا میں اپنے آنے کی
کرے گا قدر جو دنیا میں اپنے آنے کی
اسی کی جان کو لذت ملے گی جانے کی
نہ پوچھو بیٹھا ہوں کیوں ہاتھ پر میں ہاتھ دھرے
اٹھوں گا نبض ذرا دیکھ لوں زمانہ کی
مزہ بھی آتا ہے دنیا سے دل لگانے میں
سزا بھی ملتی ہے دنیا سے دل لگانے کی
گہر جو دل میں نہاں ہیں خدا ہی دے تو ملیں
اسی کے پاس ہے مفتاح اس خزانے کی