اکبر الہ آبادی
مری روح تن سے جدا ہو گئی
مری روح تن سے جدا ہو گئی
کسی نے نہ جانا کہ کیا ہو گئی
بہت دختر رز تھی رنگیں مزاج
نظر ملتے ہی آشنا ہو گئی
مریض محبت ترا مر گیا
خدا کی طرف سے دوا ہو گئی
بتوں کو محبت نہ ہوتی مری
خدا کا کرم ہو گیا ہو گئی
اشارہ کیا بیٹھنے کا مجھے
عنایت کی آج انتہا ہو گئی
یہ تھی قیمت رزق ٹوٹے جو دانت
غرض کوڑی کوڑی ادا ہو گئی
دوا کیا کہ وقت دعا بھی نہیں
تری حالت اکبرؔ یہ کیا ہو گئی