اکبر الہ آبادی
عالم ہے بے خودی کا مے کی دکان پر ہیں
عالم ہے بے خودی کا مے کی دکان پر ہیں
ساقی پہ ہیں نگاہیں ہوش آسمان پر ہیں
دل اپنی ضد پہ قائم وہ اپنی آن پر ہیں
جتنی مصیبتیں ہیں سب میری جان پر ہیں
دنیا بدل گئی ہے وہ ہیں ہمیں کہ اب تک
اپنے مقام پر ہیں اپنے مکان پر ہیں
یہ صورتیں تمہاری یہ ناز یہ ادائیں
قربان اے بتو ہم خالق کی شان پر ہیں
شکر خدا کہ ان کے قدموں پہ سر ہے اپنا
اس وقت کچھ نہ پوچھو ہم آسمان پر ہیں
اب تک سمجھ رہے ہیں دل میں مجھے مسلماں
قائم ہنوز یہ بت اپنے گمان پر ہیں
اسلوب نظم اکبرؔ فطرت سے ہے قریں تر
الفاظ ہیں محل پر معنی مکان پر ہیں