اکبر الہ آبادی
ہستیٔ حق کے معانی جو مرا دل سمجھا
ہستیٔ حق کے معانی جو مرا دل سمجھا
اپنی ہستی کو اک اندیشۂ باطل سمجھا
وہ شناور ہوں جو ہر موج کو ساحل سمجھا
وہ مسافر ہوں جو ہر گام کو منزل سمجھا
کافری سحر نہ تھی عشق بتاں کھیل نہ تھا
بہ خدا میں تو اسی سے اسے مشکل سمجھا
اترا دریا میں پئے غسل جو وہ غیرت گل
شور امواج کو میں شور عنادل سمجھا
کفر و اسلام کی تفریق نہیں فطرت میں
یہ وہ نقطہ ہے جسے میں بھی بہ مشکل سمجھا
شیخ نے چشم حقارت سے جو دیکھا مجھ کو
بہ خدا میں اسے اللہ سے غافل سمجھا
نہ کیا یار نے اکبرؔ کے جنوں کو تسلیم
مل گئی آنکھ تو کچھ سوچ کے عاقل سمجھا