اکبر الہ آبادی
الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سے
الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سے
مانگی نہ مرے دل نے مدد طول امل سے
ان کی نگہ مست ہے لبریز معانی
ملتی ہوئی تاثیر میں حافظؔ کی غزل سے
ادراک نے آنکھیں شب اوہام میں کھولیں
واقف نہ ہوا روشنیٔ صبح ازل سے
درجہ متحیر کا ہے بے خود سے فروتر
ہے روح کو امید ترقی کی اجل سے
بحث کہن و نو میں سمجھتا نہیں اکبرؔ
جو ذرہ ہے موجود ہے وہ روز ازل سے