اکبر الہ آبادی
ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
ان دنوں یار کے کچھ ذہن نشیں اور بھی ہے
جانتا ہے کہ نشست ان کی کہیں اور بھی ہے
ایک دل تھا سو دیا اور کہاں سے لاؤں
جھوٹ کہئے تو میں کہہ دوں کہ نہیں اور بھی ہے
ناز بے جا نہ کیا کیجیئے ہم سے اتنا
اسی انداز کا اک یار حسیں اور بھی ہے
کہیو اس غیرت لیلیٰ سے یہ پیغام صبا
پہلوئے قیس میں اک دشت نشیں اور بھی ہے
میرے بلوانے کا احسان جتاؤ نہ بہت
مہرباں ایک بت پردہ نشیں اور بھی ہے
ان ردیفوں میں غزل کیوں نہ ہو دشوار اکبرؔ
نا تراشیدہ کوئی ایسی زمیں اور بھی ہے