اکبر الہ آبادی
کہاں ثبات کا اس کو خیال ہوتا ہے
کہاں ثبات کا اس کو خیال ہوتا ہے
زمانہ ماضی ہی ہونے کو حال ہوتا ہے
فروغ بدر نہ باقی رہا نہ بت کا شباب
زوال ہی کے لیے ہر کمال ہوتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ بس ایک ہی خیال رہے
مگر خیال سے پیدا خیال ہوتا ہے
بہت پسند ہے مجھ کو خموشی و عزلت
دل اپنا ہوتا ہے اپنا خیال ہوتا ہے
وہ توڑتے ہیں تو کلیاں شگفتہ ہوتی ہیں
وہ روندتے ہیں تو سبزہ نہال ہوتا ہے
سوسائٹی سے الگ ہو تو زندگی دشوار
اگر ملو تو نتیجہ ملال ہوتا ہے
پسند چشم کا ہرگز کچھ اعتبار نہیں
بس اک کرشمۂ وہم و خیال ہوتا ہے