اکبر الہ آبادی
فکر منزل ہو گئی ان کا گزرنا دیکھ کر
فکر منزل ہو گئی ان کا گزرنا دیکھ کر
زندہ دل میں ہو گیا اوروں کا مرنا دیکھ اور
آسماں کی چھت بہت نیچی سر نخوت کو ہے
کبر سے کہہ دو کہ دنیا میں ابھرنا دیکھ کر
زیست بے وقعت ہوئی ہے میرے شوق زیست سے
موت حیراں ہے مرا مرنے سے ڈرنا دیکھ کر