اکبر الہ آبادی
زباں سے بے تعلق دل کو بزم یار میں دیکھا
زباں سے بے تعلق دل کو بزم یار میں دیکھا
تعجب خیز ضبط اس محرم اسرار میں دیکھا
ادھر تسبیح کی گردش میں پایا شیخ صاحب کو
برہمن کو ادھر الجھا ہوا زنار میں دیکھا
وہ بانکا قاتل آئینے کی کچھ پروا نہیں کرتا
کبھی دیکھا بھی اپنا عکس اگر تلوار میں دیکھا
زمانہ نے مرے آگے بھی دنیا پیش کر دی تھی
مگر میں نے تو اپنا فائدہ انکار میں دیکھا