اکبر الہ آبادی
طلب ہو صبر کی اور دل میں آرزو آئے
طلب ہو صبر کی اور دل میں آرزو آئے
غضب ہے دوست کی خواہش ہو اور عدو آئے
تم اپنا رنگ بدلتے رہو فلک کی طرح
کسی کی آنکھ میں اشک آئے یا لہو آئے
تری جدائی سے ہے روح پر یہ ظلم حواس
میں اپنے آپ میں پھر کیوں رہوں جو تو آئے
ریا کا رنگ نہ ہو مستند ہیں وہ اعمال
کلام پختہ ہے جب درد دل کی بو آئے
لبوں کا بوسہ جسے مل گیا ہو وہ جانے
قدم تو اس بت بے دیں کے ہم بھی چھو آئے
کھلی جو آنکھ جوانی میں عشق آ پہنچا
جو گرمیوں میں کھلیں در تو کیوں نہ لو آئے
وہ مے نصیب کہاں ان ہوس پرستوں کو
کہ ہو قدم کو نہ لغزش نہ منہ سے بو آئے