اکبر الہ آبادی
جلوۂ ساقی و مے جان لئے لیتے ہیں
جلوۂ ساقی و مے جان لئے لیتے ہیں
شیخ جی ضبط کریں ہم تو پئے لیتے ہیں
دل میں یاد ان کی جو آتے ہوئے شرماتی ہے
درد اٹھتا ہے کہ ہم آڑ کئے لیتے ہیں
دور تہذیب میں پریوں کا ہوا دور نقاب
ہم بھی اب چاک گریباں کو سیے لیتے ہیں
خود کشی منع خوشی گم یہ قیامت ہے مگر
جینا ہی کتنا ہے اب خیر جئے لیتے ہیں
مدت وصل کو پروانے سے پوچھیں عشاق
وہ مزہ کیا ہے جو بے جان دئے لیتے ہیں