اکبر الہ آبادی
میرے دل کو وہ بت دل خواہ جو چاہے کرے
میرے دل کو وہ بت دل خواہ جو چاہے کرے
اب تو دے ڈالا اسے اللہ جو چاہے کرے
شیخ کی منطق ہو یا چشم فسوں ساز بتاں
سیدھا سادہ ہوں مجھے گمراہ جو چاہے کرے
دیکھ کر پوتھی برہمن کہتے ہیں اس عہد میں
شادی تو آساں نہیں ہاں بیاہ جو چاہے کرے
خرچ کی تفصیل پوچھوں گا نہ مانگوں گا حساب
لے لے وہ بت کل مری تنخواہ جو چاہے کرے
اچھے اچھے پھنس گئے ہیں نوکری کے جال میں
سچ یہ ہے افزونیٔ تنخواہ جو چاہے کرے
با اثر ہونا تو ہے موقوف دل کے رنگ پر
جوش میں یوں آ کے اکبرؔ آہ جو چاہے کرے