اکبر الہ آبادی
دل زخمی سے خوں اے ہم نشیں کچھ کم نہیں نکلا
دل زخمی سے خوں اے ہم نشیں کچھ کم نہیں نکلا
تڑپنا تھا مگر قسمت میں لکھا دم نہیں نکلا
ہمیشہ زخم دل پر زہر ہی چھڑکا خیالوں نے
کبھی ان ہمدموں کی جیب سے مرہم نہیں نکلا
ہمارا بھی کوئی ہم درد ہے اس وقت دنیا میں
پکارا ہر طرف منہ سے کسی کے ہم نہیں نکلا
تجسس کی نظر سے سیر فطرت کی جو اے اکبرؔ
کوئی ذرہ نہ تھا جس میں کہ اک عالم نہیں نکلا