اکبر الہ آبادی
ہے دو روزہ قیام سرائے فنا نہ بہت کی خوشی ہے نہ کم کا گلہ
ہے دو روزہ قیام سرائے فنا نہ بہت کی خوشی ہے نہ کم کا گلہ
یہ کہاں کا فسانۂ سود و زیاں جو گیا وہ گیا جو ملا وہ ملا
نہ بہار جمی نہ خزاں ہی رہی کسی اہل نظر نے یہ خوب کہی
یہ کرشمۂ شان ظہور ہیں سب کبھی خاک اڑی کبھی پھول کھلا
نہیں رکھتا میں خواہش عیش و طرب یہی ساقیٔ دہر سے بس ہے طلب
مجھے طاعت حق کا چکھا دے مزہ نہ کباب کھلا نہ شراب پلا
ہے فضول یہ قصۂ زید و بکر ہر اک اپنے عمل کا چکھے گا ثمر
کہو ذہن سے فرصت عمر ہے کم جو دلا تو خدا ہی کی یاد دلا