اکبر الہ آبادی
تیرا کوچہ نہ چھٹے گا ترے دیوانے سے
تیرا کوچہ نہ چھٹے گا ترے دیوانے سے
اس کو کعبے سے نہ مطلب ہے نہ بت خانے سے
جو کہا میں نے کرو کچھ مرے رونے کا خیال
ہنس کے بولے مجھے فرصت ہی نہیں گانے سے
خیر چپ رہیے مزہ ہی نہ ملا بوسہ کا
میں بھی بے لطف ہوا آپ کے جھنجھلانے سے
میں جو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں
کار دنیا نہ رکے گا ترے مر جانے سے
رونق عشق بڑھا دیتی ہے بیتابیٔ دل
حسن کی شان فزوں ہوتی ہے شرمانے سے
دل صد چاک سے کھل جائیں گے ہستی کے یہ پیچ
بل نکل جائیں گے اس زلف کے اس شانے سے
صفحۂ دہر پہ ہیں نقش مخالف اکبرؔ
ایک ابھرتا ہے یہاں ایک کے مٹ جانے سے