اکبر الہ آبادی
یہ کیا ہنگامۂ کون و مکاں ہے
یہ کیا ہنگامۂ کون و مکاں ہے
میں کیا ہوں اور نظر میری کہاں ہے
یہ موج بے قراری دل میں کیسی
یہ بحر بیکراں کیوں کر رواں ہے
یہ کیا معنی چھپے ہیں صورتوں میں
نظر کیوں سائل حسن بیاں ہے
فقط وحدت کا ہی جلوہ ہے لیکن
حجاب وہم کثرت درمیاں ہے
وہی وہ ہے نہیں ہے غیر کا دخل
یہاں بے خود نگاہ عارفاں ہے