اکبر الہ آبادی
کروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
کروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیا
کسی کو کیا ملا دنیا میں تھا کیا
یہ دونوں مسئلے ہیں سخت مشکل
نہ پوچھو تم کہ میں کیا اور خدا کیا
رہا مرنے کی تیاری میں مصروف
مرا کام اور اس دنیا میں تھا کیا
وہی صدمہ رہا فرقت کا دل پر
بہت روئے مگر اس سے ہوا کیا
تمہارے حکم کے تابع ہیں ہم سب
تمہیں سمجھو برا کیا اور بھلا کیا
الہٰی اکبرؔ بیکس کی ہو خیر
یہ چرچے ہو رہے ہیں جا بہ جا کیا