اکبر الہ آبادی
تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا
اے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالا
برباد کیا اجل نے مجھ کو کیا یہ کہئے
روح رواں نے اپنے دامن کو جھاڑ ڈالا
دستار و پیرہن گم اور جیب و کیسہ خالی
تہذیب مغربی نے ہم کو چتھاڑ ڈالا
بنیاد دیں ہوائے دنیا نے منہدم کی
طوفان نے شجر کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا
اچھا ملا نتیجہ مجھ کو مراسلت کا
قاصد کو قتل کر کے نامہ کو پھاڑ ڈالا