اکبر الہ آبادی
سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیں
سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیں
تو ہر جگہ ہے جلوہ گر اور پھر کہیں نہیں
میں نے وفور شوق میں شاید سنا نہ ہو
یا شاید آپ ہی نے نہ کی ہو نہیں نہیں
دست جنوں سے قطع ہوا پیرہن مرا
دامن نہیں ہے جیب نہیں آستیں نہیں
میں تم سے کیا بتاؤں کہ اس وقت ہوں کہاں
جب تم ہو پیش چشم تو پھر میں کہیں نہیں
جب سے گناہ چھوڑ دئے سب کھسک گئے
اب کوئی میرا دوست نہیں ہمنشیں نہیں
اکبرؔ ہمارے عہد کا اللہ ر انقلاب
گویا وہ آسمان نہیں وہ زمیں نہیں