اکبر الہ آبادی
حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
حاکم دل بن گئی ہیں یہ تھیٹر والیاں
میں لگاؤں گا گل داغ جگر کی ڈالیاں
ضبط کے جامے کے بخیہ ٹوٹتے ہیں دوستو
ہائے یہ بیلیں کشیدے اور ایسی جالیاں
حور مستقبل پری ماضی مگر یہ حال ہیں
دی و فردا کیا کروں پاؤں جو یہ خوش حالیاں
آسماں سے کیا غرض جب ہے زمیں پر یہ چمک
ماہ و انجم سے ہیں بڑھ کر ان کے بندے بالیاں
فول وہ کہتی ہیں مجھ کو میں انہیں سمجھا ہوں پھول
ہیں گل رنگیں سے بہتر ان گلوں کی گالیاں