اکبر الہ آبادی
دل مرا ان پہ جو آیا تو قضا بھی آئی
دل مرا ان پہ جو آیا تو قضا بھی آئی
درد کے ساتھ ہی ساتھ اس کی دوا بھی آئی
آئے کھولے ہوئے بالوں کو تو شوخی سے کہا
میں بھی آیا ترے گھر میری بلٰی بھی آئی
وائے قسمت کہ مرے کفر کی وقعت نہ ہوئی
بت کو دیکھا تو مجھے یاد خدا بھی آئی
ہوئیں آغاز جوانی میں نگاہیں نیچی
نشہ آنکھوں میں جو آیا تو حیا بھی آئی
ڈس لیا افعیٔ شام شب فرقت نے مجھے
پھر نہ جاگوں گا اگر نیند ذرا بھی آئی