اکبر الہ آبادی
خیال دوڑا نگاہ اٹھی قلم نے لکھا زبان بولی
خیال دوڑا نگاہ اٹھی قلم نے لکھا زبان بولی
مگر وہی دل کی الجھنیں ہیں کسی نے اس کی گرہ نہ کھولی
لطافتوں کے نزاکتوں کے عجیب مضمون ہیں چمن میں
صبا نے جھٹکا ہے اپنا دامن مسک گئی ہے کلی کی چولی
خیال شاعر کا ہے نرالا یہ کہہ گیا ایک کہنے والا
شباب کے ساتھ یوں ہے رندی کہ جیسے پھاگن کے ساتھ ہولی
کہو یہ رندان ایشیا سے کہ بزم عشرت کے ٹھاٹھ بدلے
اڑن کھٹولا ہے اب مسوں کا گئی پری جان کی وہ ڈولی