اکبر الہ آبادی
فتنہ اٹھے کوئی یا گھات میں دشمن بیٹھے
فتنہ اٹھے کوئی یا گھات میں دشمن بیٹھے
کار الفت پہ تو اب حضرت دل ٹھن بیٹھے
شیخ کعبے میں کلیسا میں برہمن بیٹھے
ہم تو کوچہ میں ترے مار کے آسن بیٹھے
سوئے دولت نظر آئی نہ جو راہ اعزاز
مسند صبر و توکل ہی پہ ہم تن بیٹھے
ہوں میں وہ رند اگر حشر میں ملزم ٹھہروں
فیصلے کے لئے حوروں کا کمیشن بیٹھے
انقلاب روش چرخ کو دیکھ اے اکبرؔ
کل جو تھے دوست مرے آج عدو بن بیٹھے
ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبرؔ
ہم تو گنگا ہی پہ اب مار کے آسن بیٹھے