اکبر الہ آبادی
خوب فرمایا کہ اپنا پیار رہنے دیجے
خوب فرمایا کہ اپنا پیار رہنے دیجے
آپ ہی یہ غمزہ و انکار رہنے دیجے
چاندنی برسات کی نکھری ہے چلتی ہے نسیمؔ
آج تو للہ یہ انکار رہنے دیجے
چشم بد دور آپ کی نذریں ہیں خود موج شراب
بس مجھے بے مے پئے سرشار رہنے دیجے
کیجیئے اپنی نگاہ فتنہ افزا کا علاج
نرگس بیمار کو بیمار رہنے دیجے
چھوڑنے کا میں نہیں اب آپ کو اے جان جاں
ہے اگر مجھ پر خدا کی مار رہنے دیجے
ہم کنار اس بحر خوبی سے نہ ہوں گے اکبرؔ آپ
ایسے منصوبے سمندر پار رہنے دیجے