اکبر الہ آبادی
دوعالم کی بنا کیا جانے کیا ہے
دوعالم کی بنا کیا جانے کیا ہے
نشان ماسوا کیا جانے کیا ہے
حقیقت پوچھ گل کی بلبلوں سے
بھلا اس کو صبا کیا جانے کیا ہے
ہوا ہوں ان کا عاشق ہے یہ اک جرم
مگر اس کی سزا کیا جانے کیا ہے
مرے مقصود دل تو بس تمہیں ہو
تمہارا مدعا کیا جانے کیا ہے
نہ اکبرؔ سا کوئی ناداں نہ ذی ہوش
ہر اک شے کو کہا کیا جانے کیا ہے