اکبر الہ آبادی
زباں ہے ناتوانی سے اگر بند
زباں ہے ناتوانی سے اگر بند
مرے دل پر نہیں معنی کے در بند
ہماری بے کسی کب تک چھپے گی
خدا پر تو نہیں راہ خبر بند
بہ یاد رنج یاران نظر بند
کیا ہم نے بھی اب ملنے کا در بند
دلوں میں درد ہی کی کچھ کمی ہے
نہیں ہے آہ پر راہ اثر بند
بت مشرق نہیں محتاج ساماں
کمر ہی جب نہیں کیسا کمر بند
کہوں گا مرثیہ اس غم میں ایسا
کھلے معنی دکھائے جس کا ہر بند
خیال چشم فتاں میں ہوا محو
مرا دل اب ہے سینے میں نظر بند