اکبر الہ آبادی
خدا کی ہستی کو یاد رکھنا اور اپنی ہستی کو بھول جانا
خدا کی ہستی کو یاد رکھنا اور اپنی ہستی کو بھول جانا
نظر اسی پر ہے اور باتوں کو میں نے بالکل فضول جانا
جنوں ہم ایسوں کو کیا تعجب بہار کا ہے سماں ہی ایسا
صبا کا اٹھکھیلیوں سے چلنا خوشی سے کلیوں کا پھول جانا
جہان فانی کی انجمن میں یہی تسلسل ہمیشہ دیکھا
امید کے ساتھ شاد آنا اٹھا کے صدمہ ملول جانا