Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے عشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے مذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سے دیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے بیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیں یہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے بہتر یہی ہے قصد ادھر کا کریں نہ وہ ایسا نہ ہو کہ راہ میں دشمن کا گھر پڑے ہم چاہتے ہیں میل وجود و عدم میں ہو ممکن تو ہے جو بیچ میں ان کی کمر پڑے دانا وہی ہے دل جو کرے آپ کا خیال بینا وہی نظر ہے کہ جو آپ پر پڑے ہونی نہ چاہئے تھی محبت مگر ہوئی پڑنا نہ چاہئے تھا غضب میں مگر پڑے شیطان کی نہ مان جو راحت نصیب ہو اللہ کو پکار مصیبت اگر پڑے اے شیخ ان بتوں کی یہ چالاکیاں تو دیکھ نکلے اگر حرم سے تو اکبرؔ کے گھر پڑے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR