Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں یہی لے گئیں صبر و آرام دل کا دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہ ہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہے تو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحب جو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا پس مرگ ان پر کھلا حال الفت گئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہ کہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔ تو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR